+92 3009607123 info@starwelfare.org How to Donate Us
August 16, 2023 - BY Admin

بیٹوں اور بیٹیوں کی ستائی بزرگ خاتون سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن پنجاب حوا شیلٹر ہوم (پناہ گاہ)پہنچ گئی

بیٹوں اور بیٹیوں کی ستائی بزرگ خاتون سٹار ویلفیئر آرگنائزیشن پنجاب حوا شیلٹر ہوم (پناہ گاہ)پہنچ گئی

بیان:   اختر پروین      والد کا نام:  محمد ابراہیم   بیوہ : محمد رمضان

جو کہ میرے پہلے شوہر تھے آرمی میں کام کرتے تھے ان کا انتقال ہو چکا ہے

میرے دوسرے شوہر کا نام احمد امیر ہے جو کہ آرمی میں کام کرتے تھے ان کا بھی انتقال ہو چکا ہے

میرے 5 بیٹے اور 1 بیٹی ہے میرے سب سے بڑے بیٹے کا نام حافظ منور سعید ہے جو کہ آرمی سے ریٹائر ہوا ہے اب جاب کرتا ہے اس سے چھوٹا بیٹا تصور خان ہے جو ٹرک چلاتا ہے اس سے چھوٹا بیٹا سرور زمان مزدوری کرتا ہے اس سے چھوٹابیٹا راحیل مرتضی وہ بھی مزدوری کرتا ہے بھائیوں میں سب سے چھوٹا بیٹا علی رضا ہے جوکہ آرمی میں ہے ایک بیٹی ہے جس کا نام تعصیم اختر ہے اس کی شادی کی ہوئی ہے

محمد رمضان جو کہ میرے پہلے شوہر تھے  ان کا انتقال ہو گیا عدت کے بعد میں نے خود دوسری شادی کرلی احمد امیر جو کہ میرے دوسرے شوہر تھے وہ آرمی میں کام کرتے تھے  ریٹائر ہونے کے بعد وہ باہر چلے گئے 8 سے 10 سال وہ باہر کے ملک رہے میری بیماری کے باعث وہ واپس آگئے ہمارا گھر چکیاں میں تھا ہم نے اپنا گھر بیچ کر اسلام آبادمیں گھر لے لیا  اسلام آباد آنے کے سات مہینے بعد میرے شوہر کا انتقال ہو گیا  میرے شوہر کی دوسری ماں کے بیٹے نے مجھ  پر کیس کردیا کہ کہ یہ گھر ہمارا ہے میرے کوئی بھی بچہ میرے ساتھ نہ تھا  میں نے بچوں کے سامنے ہاتھ بھی جوڑے پر کسی نے میری بات نہ مانی میں نے سارا زیور بیچ کر وکیلوں کو پیسہ دیتی رہی پر میں کیس نہ جیت سکی  میں نے ان لوگوں کی بہت منت سماجت کی کہ مجھے اس گھر میں رہنے دو پروہ پولیس والوں کو لے آئے پولیس والوں نے مجھے دھمکیاں دیں کہ اگر آپ اس گھر سے باہر نہ گئی تو ہم تمہارا وہ حشر کریں گئے کہ پورا محلہ تمھارا تماشا ہ دیکھے گا  پھر میں اسلام آباد سے سرگودھا آگئی  پھر میں نے ایک گھر کرایہ پر لے لیا  میرے شوہر کی پنشن آتی تھی جس سے میں گھر کا کرایہ دیتی تھی میری ساری پنشن کرایہ میں چلی جاتی کھانے کے لیے اور دوسرے سامان کے لیے پیسہ نہ بچتے تھے پھر میں نہ مدرسہ میں رہنے کا فیصلہ کیا میں ایک مدرسہ میں چلی گئی وہاں جا کر مجھے گھٹنوں کی تکلیف ہو گئی وہاں کی عورتوں نے مجھے کہا کہ اپنے بیٹے کو فون کرو کہ تمہیں یہاں سے لے جائے میں نے اپنے بیٹے کو فون کیا کہ بیٹا مجھے یہاں سے لے جاؤ اس نے کہا کہ میں ابھی کہیں گیا ہوا ہوں میں اپنے بیٹے کو کہ دیتا ہوں وہ آپ کہ لے جائے گامیں اس کا انتظار کرتی رہی پر وہ مجھے لینے نہ آیا 2دن بعد اس کا فون آیا کہ میں آپ خودآجائیں  میں اس کے گھر چلی گئی اس کے گھر جانے کی بعد گھر کا ماحول مجھے پسند نہ آیا میں بیمار تھی بار بار میں اوپر نہیں چھڑ سکتی تھی اس کی بیوی مجھ سے لڑتی تھی روز روز کی لڑائی سے تنگ آگئی میری ایک جاننے والی نے مجھے حوا شیلٹر ہوم کا بتایا کہ وہاں چلی جاؤ اب میں یہاں موجود ہوں